اشاعتیں

شہری

 بے بس نظر آتا ہے یہاں ہر ایک شہری لوٹ لیتا ہے کوئ نہ کوئ کہیں شہری کوئ نظم و ضبط نہ اصول و ضوابط ہیں کیوں اس صورتحال پر چپ نظر آتا ہے شہری خیر کر تو کچھ نہیں سکتے بے بس جو ٹہرے زیادہ کچھ نہیں مگر لب تو ہلا سکتا ہے شہری جن کے بس میں ہے وہ بھی بے بس نظر آتے ہیں اب آپ ہی بتائیں کہ کہاں جاۓ شہری؟

سوری (sorry)

سوری چار لفظوں پر مشتمل انگریزی زبان کا یہ لفظ اپنے اندر بہت طاقت رکھتا ہے، چاہے جیسے بھی حالات ہوں یہ چار لفظ اسے سہی ڈگر پر لے جاتے ہیں ۔ لیکن ان چار لفظوں کو اثر کرنے کیلۓ چند چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ مثال کے طور پر جنس ، عمر ، دماغی سکون وغیرہ وغیرہ۔ جیسے کے اگر کوئ بچہ آپ کے ساتھ ایسی کوئ حرکت کردے جو آپ کو ناگوار گزرے اور وہ اپنی موہنی صورت کو اور معصوم بنا کر آپ کو سوری کہے تو آپ فوراً مسکرا کر کہینگے "ارے میرا بچہ کوئ بات نہیں۔ اممہ ایک پپی بھی لینگے اور سر پر ہاتھ بھی پھیرینگے۔ اور اگر یہی کام مخالف جنس کی طرف سے ہو تو آپ تھوڑے کرخت لہجے میں " کوئ بات نہیں کہینگے" اور آگے بڑھ جاینگے۔   لیکن ان دونوں صورتوں میں دماغی سکون کی بہت اہمیت ہے نہیں تو حالات تھوڑے مختلف ہونگے۔ اب بات کرتے ہیں ہم جنس کی، اگر اپ کے ہم جنس کی طرف سے ہوئ غلطی کی صورت میں اپ کو سوری سننے کو ملے تو اس میں تین باتیں بہت اہمیت رکھتی ہیں، جیسے کہ آپ کا مخالف آپ کے برابر کا ہے،  یہ آپ سے کمزور ہے یہ پھر آپ سے زیادہ طاقتور۔ تو پہلی صورت میں آپ دونوں کے درمیان تھوڑی بہت بحث ہوگی اور آپ اپنے رستوں پر...

ماں

یہ مائیں جو ہوتی ہیں بہت دل کے پاس ہوتی ہیں پیار اور محبت میں بے مثال ہوتی ہیں چوٹ جو لگے اولاد کو تکلیف سے یہ بے حال ہوتی ہیں یہ مائیں جو ہوتی ہیں بہت خاص ہوتی ہیں اولاد کے ہر دم پاس ہوتی ہیں کرلو خدمت ماں باپ کی جنت کی چابی انکے پاس ہوتی ہے یہ مائیں جو ہوتی ہیں خدا کا روپ ہوتی ہیں اولاد کو ہر دم مطلوب ہوتی ہیں چلے جاؤ کہیں بھی ماں کی کمی محسوس ہوتی ہے جب تک ماں باپ ہیں سلامت تب تک دعاؤں کی چادر سر پر موجود ہوتی ہے یہ مائیں جو ہوتی ہیں دنیا سے خاص ہوتی ہیں

عید

تصویر
 ہم نہیں منا سکتے ایسے عید تیرے دید کے بغیر کیسی عید

دعا

 دور  عذاب  ہے   ہم   سمجھ  نہیں  پا  رہے اپنی  ہی  مستی   میں   ہم  جیتے  جا  رہے کوئ تو غلطی ہوئ ہے جسکا ادراک نہیں ہم کو تبھی تو ایک دوسرے سے ہم منہ کو چھپا رہے الہیٰ اس  عذاب  کو  اب  پھیر  دے  ہم  سے تیرے  آگے  ہم   اپنی  جھولیاں  پھیلا  رہے تیرے حکم سے ہی جاۓ گا عذاب کا یہ دور ہم مل کر تیرے  آگے  ہاتھوں  کو  اٹھا  رہے

میں

 بہت جی چاہتا ہے چیخوں اور چلاؤں میں مگر دماغ کہتا ہے حد میں رہ جاؤں میں سوچتا ہوں کسی دن کہہ دوں اسے دل کی بات پر زبان کہتی ہے چپ رہ جاؤں میں بہت کوشش کی دل کی سنوں نہ دماغ کی مگر خواہش ہے میری ہارتا رہ جاؤں میں بس اسی باعث اکیلا ہوں خود ہی کو کوستا رہتا ہوں یہی باقی رہا ٹسوے بہا بہا کر پونچھتا رہ جاؤں میں

سامنا

 آج اس شخص سے میرا سامنا ہوا کب سے تھا موجود اندر آج آشنا ہوا